دجال

آج کل دنیا بھر میں دجال کے حوالے سے بڑی باتیں ہو رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس کے اوپر پوڈ کاسٹ کی جا رہی ہے تو دوسرے چینلز اس کے بارے میں تبصرے کر رہے ہیں۔ بہت سے مذاہب کے ماننے والوں میں یہ کردار آپ کو ملے گا۔ فی الحال ہم مذہب اسلام کے ماننے والوں کا ذکر کریں گے، کیونکہ میری ویب سائٹ کا مقصد ہی یہ ہے کہ دین اور مذہب کے فرق کو واضح کروں۔ اور جو کہانیاں اور روایتوں کی بنیاد پر ملی ہیں اور جن کی وجہ سے اللہ کا دین مذہب بنا ہے اسے بیان کروں۔

کیا قرآن میں دجال کا نام آیا ہے؟ تو جواب ہے – نہیں۔ پورا قرآن اتنے اہم کردار کو نہیں بیان کر رہا!! کیوں؟؟ سوچیں!!

یہ کردار روایتوں کی تخلیق ہے جسکو آج سب لوگ مذہب اسلام کا مأخذ مانتے ہیں۔ وہ کتابیں جو انسانی ذہن کی تخلیق ہیں!! جس طرح نااہل وارثوں نے اللہ کی پرانی الہامی کتابوں کا حال کیا تھا یعنی اصل اور نقل کو اتنا ملا دیا کہ اللہ کی ساری تعلیمات کو ان نااہل وارثوں نے اپنی خواہشات کے مطابق بدل دیں۔ آج یہی کچھ قرآن کے ساتھ ہوا اسکی تعلیمات کو تو نہ بدل سکے لیکن اپنی مرضی کی روایتیں بنا کر نبی محمد ﷺ سے منسوب کر دیں۔ جیسے یوحنا نے نبی عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے باتیں بنا کر عیسائیت مذہب بنایا۔ آج ویسے ہی ہمارے پاس مذہب اسلام ہے۔

دجال ایک منفی کردار ہے جو پوری دنیا کو اپنی مرضی سے چلانا چاہتا ہے۔ تو ایسا ایک کردار قرآن میں ہمیشہ سے ہی ہے جسکو مسلم امہ “ابلیس” کے نام سے جانتی ہے۔

اس نے اللہ سے مہلت مانگی ہے کہ میں انسانوں / بنی آدم کی ذریت کو آپ کی ہدایت سے بھٹکاؤں گا۔ کیونکہ اس کے خیال میں اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ وہ آدم سے بہتر تھا۔ خلافت کا حق اسے ملنا چاہیے تھا۔ اللہ نے اسے ناشکرا اور رذیل کہا اور کہہ دیا کہ جو میرے بندے ہوں گے وہ میری ہدایت پاتے رہیں گے اور جو تیری پیروی کرے گا، میں تجھے اور ان سب کو جہنم رسید کروں گا۔

قرآن، جو اللہ کا کلام ہے جس میں چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات وضاحت سے بیان ہوئی ہے۔ سوچیں وہ دجال کے بارے میں کیوں خاموش رہے گا؟؟ وہ دجال جس کے بارے میں ہے کہ وہ دنیا کا خاتمہ کرے گا۔ اس زمین پر قیامت لائے گا۔ وہ قیامت جس کا علم صرف اور صرف اللہ کو ہے!! لیکن مسلم امہ کو سمجھ ہی نہیں آ رہا کیونکہ وہ اللہ کی ہدایت کے بجائے ان روایتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ اگر وہ قرآن کو سمجھ کر پڑھیں تو اس میں واضح طور پر بار بار پرانی قوموں کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ وہ نہ صرف طاقت میں ہم سے کافی بہتر تھیں بلکہ ذہانت میں بھی ہم سے بہت آگے تھیں۔ لیکن چونکہ اللہ کی ہدایت سے دور ہوتی گئیں تو بالآخر اپنے برے انجام کو پہنچیں۔ اللہ کا دستور / قانون رہا ہے کہ جو قوم ہدایت سے دور ہوگی وہ اپنے اوپر خود ظلم کرے گی اور بالآخر فنا ہو جائے گی۔ تو اللہ ایک اور قوم انہیں پر حکومت کرنے کو لے آئے گا۔

ہمارے پاس آثار قدیمہ کے ذریعے ایسی بہت سی قوموں کی شہادتیں ملیں گی جو آج ہمارے درمیان نہیں ہیں، صرف ان کی نشانیاں بتا رہی ہیں کہ وہ کتنی عظیم تھیں لیکن اپنے اوپر خود ہی ظلم کر بیٹھیں۔

یہی حال ہمارا ہے۔ ہم اپنے اعمال کو درست کرنے کے بجائے دجال کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں کہ آ اور ہمیں ختم کر۔ پر تو کر نہیں پائے گا کیونکہ ہمارے پاس ایک اور رسول واپس آنے والے ہیں اور ایک امام ہوں گے جو ہماری رہنمائی کر کے ہمیں دجال سے بچا لیں گے۔

لیکن ہم جو اصل ہدایت کی کتاب جو آج ہمارے لیے رسول بھی ہے اور امام بھی ہے اسکو نہیں سمجھ کر پڑھیں گے!!!

اللہ کی دی ہوئی ہدایت کی ایک کتاب کھولنے کے بجائے بس ان دوسری ڈھیر ساری کتابوں کو پڑھیں گے اور اس کے مطابق اپنی زندگی گزاریں گے!!

میں ہمیشہ یہی کہتی ہوں کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔ آپ کو فیصلے کا اختیار ہے کہ آپ کس کی ہدایت پر چلیں۔ یہ ہدایت کی کتاب آپ پر خود سے سمجھ کر پڑھنا فرض ہے۔

فیصلہ آپ کا ہے، عمل آپ کا ہے کیونکہ آپ کو اپنی جوابدہی خود کرنی ہے۔

اللہ ہم سب کا حافظ و ناصر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *