نسل انسانی

میں کینڈا کے شہر ٹورنٹو میں رہتی ہوں جہاں بہت سارے رنگ و نسل اور مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔ اور یہ میری خوش قسمتی ہےکے اسکی وجہ سے مجھے بھی اپنے ” مسلم” ہونے کی شناخت سمجھنے میں مدد ملی۔ اللہ کی نظر میں مسلم ، وہ ہے جو دنیا میں سلامتی لاۓ چاہے وہ کسی بھی رنگ ونسل کا ہو، کسی بھی مذہب سے اسکا تعلق ہو، کوئ بھی زبان بولتا ہو یا کسی بھی ملک کا رہنے والا ہو ۔لیکن اس کائنات کے خالق کی نظر میں وہ مسلم ہوگا ۔کیونکہ وہ اسکی مخلوق کو اپنی ذات سے سلامتی پہنچا رہا ہے۔اسلیے میں بھی اپنے آپ کو مسلم کہتی ہوں اور کوشش کرتی ہوں کے میرے ارد گرد جو بھی لوگ ہوں انکو میری ذات سے سلامتی ملے۔

ٹورنٹو کو ملٹی کلچرل سوسائٹی کہا جاتا ہے اور یہ بات واقعی بہت درست ہے!!! اسلئے مجھے بھی بہت سے مختلف ملکوں اور عقائد رکھنے والوں سے واسطہ پڑا ۔ جب مختلف مذاہب کے لوگوں سے بات کرو تو سب ” ایک الہ” کا تصور رکھتے ہیں سب کا یہ ماننا ہے کہ اچھے عمل کا اچھا اور برے عمل کا برا نتیجہ ملتا ہے ۔ انکی مذہبی تعلیمات بھی کم وبیش ایک جیسی ہوتی ہیں ۔جب ان سے بات چیت کرو تو ایک بات پر سب کا اتفاق ہے کے اخلاقی قدریں بہت ضروری ہیں ۔جو لوگ اچھے ہوتےہیں۔ انکے سوچنے کا زاویہ ایک سا ہوتا ہے کہ دنیا میں امن و امان سےمل جل کر رہیں۔

تو پھر یہ رنگ ونسل کے جھگڑے ، مذہب کے نام پرلڑائیاں ، تو امن کے نام پر کون چڑھائیآں کرتا ہے؟ ؟ جن ملکوں میں لڑائیاں یا جنگیں ہویں انکے مہاجرین ٹورنٹو میں بھی آکر آباد ہوۓ ہیں انکا یہی کہنا ہے کہ ہم سب تو ہمیشہ مل جل کر رہتے تھے ۔ایکدوسرے کے مذاہب کا احترام کرتے اور انکے تہواروں پر ملتے تھے۔ پتہ نہیں کس نے یہ نفرتوں کے بیج ہمارے علاقوں میں ڈالے؟ کہاں سے یہ تفرقات کاپودا اگا اور ایک تناور شجر بن کر ہم سبکو جدا جدا کرگیا۔

کافی عرصوں سے دنیا کے مختلف ملکوں میں جنگیں ہو رہی ہیں۔ معصوم لوگوں کا قتل عام ہورہا ہے تو عورتوں کی عزتیں پامال ہورہیں ۔ معصوم بچوں کو بے رحمی کا نشانہ بنا کر نسلوں کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔انسانیت ناپید ہے اور لوگ بے حس ہوتے جا رہے ہیں۔ شاید یہی اقتدار کے حامیوں کا ” مشن”ہے ۔ لگتا ہے اب انھیں انسانوں کی ضرورت نہیں رہی!!!!

ورنہ ایک زمانے میں مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ملکر ” اسقاط حمل ” پر پابندی تھی تو دنیا کی آبادی بڑھائ جا رہی تھی۔ تاکہ انکے کاروبار چل سکیں انکی حکومت دنیا پر قائم ہو۔پھر جب آہستہ آہستہ آبادی میں اضافہ ہوا اور اسکو سنبھالنا مشکل ہونے لگا تو کھانے پینے کی اشیاؤں میں ملاوٹ شروع ۔ جس سے ایک طرف دوائیوں کے کاروبار میں نہ صرف اضافہ ہوا تو دوسری طرف مختلف قسم کے امراض دنیا میں متعارف ہونے اور شرح بیماری و اموات میں اضافہ ہوا۔ ملکوں میں ایٹمی ہتھیار بند کرانے کے نام پر ایکطرف ملکوں سے لڑائیاں تو دوسری طرف اپنے اسلحہ کا کاروبار جمانا۔

اس گورکھ دھندے میں پیستا صرف ایک عام انسان ہے چاہے اسکا تعلق کسی رنگ ونسل یا مذہب سے ہو۔ انسانی نسل کا خاتمہ کرنے کی یہ مہم بڑی خطرناک ہے !!! صرف جنگوں سے ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی انسانوں کا خاتمہ کروایا جا رہا ہے ۔آجکل کے بچے اور نوجوان نسل جنکا زیادہ تر وقت صرف سوشل میڈیا پر صرف ہوتا ہے۔ وہ مختلف قسم کی ذہنی امراض میں مبتلا ہیں۔وہ اعصابی طور پر کمزور ہوتے جارہے ہیں ۔ انکی قوت برداشت کم ہوتی جارہی ہے ۔ وہ مشکل حالات کا سامنا نہیں کرپاتے تو ڈیپریشن یا مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ صبر و برداشت کی کمی کے باعث ہر چیز چاہتے ہیں کے فوراً میسر ہوجائے ۔

یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے !!! کیونکہ بلآخر ان سب کا ایک ہی انجام ہے انسانوں اور انسانیت کا خاتمہ!!!
اور ایسا کیوں ہورہا ہے اوران سب عوامل کے پیچھے کون سے ہاتھ ہیں ؟؟؟؟

ہامان اور قارون جیسے لوگ- جنکا الہ ہے ” اقتدار “- یعنی اس دنیا پر اپنی مرضی کی خلافت اور حکمرانی قائم کرنا۔اسکے لئے پہلے انھیں انسانوں کی ضرورت تھی تو انھوں نے آبادی بڑھائ ۔ اب ضرورت نہیں رہی کیونکہ ہر کام کے لئے “اے آی اور روبوٹ” جیسی مشینیں میسر ہیں تو انسانوں کو کم کرو کیونکہ انکو سنبھالنے کے لئے نہ جگہ ہے نہ وسائل ۔

لیکن اقتدار کے نشے میں وہ بھول گے ہیں کے الہ تو صرف ایک ہی ہے جو اس کاینات کا خالق ہے۔اور اس الہ کا ایک قانون یہ بھی ہے کہ”جب ایک قوم اپنی طاقت کے نشے میں چور ہو کر خود کو الہ سمجھکر اس دنیا کے نظام میں اپنی مرضی کے قوانین لاتی ہے تو تباہی اسکا مقدر ہوتی ہے۔ماضی کی بہت سی عظیم قوموں کا حال ہمارے سامنے ہے

ایمان یافتہ وہ کہلاتا ہے جو ایک الہ ( پوری کائنات کا خالق ومالک) ہر اور اچھے، برے اعمال کا نتیجہ( آخرہ) ملنا ہے اس پر یقین رکھے اس لئے ایک مومین یا ایمانیافتہ ہونے کے ناطے میں یہی سمجھتی ہوں کہ ایک دن اس دنیا کو چھوڑ کر جاناہے ۔ موت تو برحق ہے۔ تو کیوں نہ مل جل کر رہیں اور اس دنیا کو امن کا گہوارہ بنائیں۔ کیونکہ ہم کو اپنے اچھے اور برے نتیجہ کا صلہ اس دنیا میں مل جاناہے !!!

بیشک کل کس نے دیکھی ہے۔ لیکن اپنے آگے آنے والوں کے لیے ہمیں اپنے آج کو اچھا بنانا ہوگا ۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم خودغرضی چھوڑ کر دوسروں کو سلامتی پہنچائیں !!!
آج آپ اگر کسی دوسرے کا بھلا کریں گے تو یقین رکھیں اس ذات پر جو سب کا مالک، ہےوہ آپکو وہاں سے نوازے گا جہاں سے آپکا گمان بھی نہ ہوگا !!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *