!!قیامت  کب آے گی

   قیامت کا ذکر بہت سے مذہبی حلقوں میں اکثر ہوتا رہتا ہے جو کہ عموماً  اس دنیا کےخاتمہ کے متعلق  ہے کہ اس دنیا  کے اختتام کی کچھ واضح نشانیاں  ہیں جنکی پیشنگوئیاں مذہبی کتابوں  میں درج ہیں۔ بہت سے مذاہب  کا یہ عقیدہ ہے کہ اس دنیا کے خاتمہ سے پہلے نیکی اور بدی کی بہت بڑی جنگ ہوگی جسکے باعث  بڑی تباہی ہوگی ۔ قحط سالی ، دنیاکے موسمی حالات  میں بہت تغییرات  ہونگے  جیسے چاند گرہن یا سورج گرہن کا ہونا، زلزلے اور دوسری  آسمانی آفتیں ہوگیں جس سے نسل انسانی کا خاتمہ ہوگا۔

      اس قسم کی بہت سی پیشنگوئیاں ہر مذہبی حلقے کے ماننے والے کرتے رہتے ہیں۔ اسی میں کچھ اور باتیں بھی بہت مشہور ہیں جیسے کسی نبی،اوتار یا امام کی آمد۔  جب دنیا میں ہر طرف بربادی ہوگی ۔برائیاں عام ہوگیں تو اس بدی کے خاتمے  کےلئے وہ نبی یا اوتار یا امام آئیں گے اور اس کا خاتمہ کریں گے۔  میڈیا  والے اپنی مشہوری کے لئے اس قسم کے قصوں کا استمال  کرتے ہیں۔

 ہم بھی بچپن سے اس قسم کے قصے سنتے رہے ہیں۔بحیثیت  مسلم میرا یہ ایمان ہے کہ ہر ذی روح کو ایک نہ ایک دن ختم ہونا ہے اور ہر چیز کو فنا ہونا ہےسواۓ اس دنیا کے خالق کےاور ایک دن ایسا آے گا جب ہر ذی روح مرنے کے بعد دوبارہ زندگی  پاۓ گا اور اپنے رب کے حضور  حاضر ہوگا۔ 

اور یہی اصل ” یوم القیمہ ” ہے یعنی کے مرنے کے بعد دوبارہ  زندہ اٹھ کھڑا ہونا۔اس دن ہر ذی روح اپنے اعمال کی جوابدہ ہوگی اور جس کے  اعمال اچھے ہونگے وہ خوش نصیب ہمیشہ کے لئیے ایک اچھی زندگی گزارے گا اور جسکے اعمال برے ہونگے وہ ہلاکت میں ہوگا۔

    لیکن افسوس ہماری توجہ ان کہانیوں  پر ہے جو اللہ  کے دین کے دشمنوں  نے ہمارے دل وذہن میں ڈال دی ہیں

 ۔جیسے  دجال کی حکومت!! 

نبی عیسی ع س کی واپسی !!!

  تو امام مہدی ع س کی آمد !!

یہ تینوں حضرات آگےپیچھے اس دنیا میں آییں گے جو کہ قیامت  کی سب سے بڑی نشانیوں مین سے ہیں۔

    انکے حوالےسے ایسی روایتیں ہیں کے بیان سے باہر ہیں اس سے زیادہ افسوس  لوگوں کی عقل پرہوتاہے کے سوچتے نہیں ہیں ۔

 نبی عیسی ع س کا انتقال  ہوگیا ہے( سورہ المائدہ116) میں اللہ  رسول و نبی عیسی ع س کا مکالمہ ہے ،جب اللہ  ان سےقیامت کے دن سوال کرے گا ۔۔۔۔۔۔ مجھے بھلا یہ کب زیب دیتا تھا کے میں کوئ ایسی بات کہی ہوتی تو وہ تجھ سے کیسے مخفی رہ سکتی ہے۔۔۔

اس آیت میں واضح طور پر بیان ہے کےنبی عیسی ع س ایک ہی دفعہ آےتھے دنیا میں ورنہ وہ کہتے کہ میں نے دودفعہ انکو سمجھایا پر انکو نہیں سمجھ آیا۔

 قرآن میں  تو واضح طور پر اس بات کی نفی ہوگئ ہے۔ لیکن لوگ پھر بھی نہیں سمجھتے۔ زبان سے رسولﷺ  کو اللہ کا آخری نبی و رسول کہتے ہیں لیکن پھر بھی نبی عیسی کی واپسی کے منتظر ہیں ۔کیونکہ یہودی قوم جسکی طرف  نبی عیسی ع س   مبعوث ہوۓ  تھے وہ ان پر ایمان نہیں لاۓتھےتو انکے خاتمہ کےلئےنبی عیسی ع س کی واپسی ضروری ہےاب کوئ پوچھےکے رسولﷺ  جو تمام انسانوں  کےلئے مبعوث ہوۓتھے اوراس  وقت کی یہودی قوم ان  پر بھی تو  ایمان نہیں لائ تھی تو کیا اس وقت کی یہودی قوم اس بات سے بری الزماں تھی؟ کیا اسوقت کے عیسائیوں کو رسولﷺ پر ایمان لانا ضروری  نہ تھا ؟

    .تو یہ کیسا انصاف ہے کے باپ دادا بلکہ پرکھوں  کی غلطیوں  کی سزا  ان لوگوں  کو ملے۔ یہ اللہ کا قانون ہے نہیں ! اور یہ بات تو قرآن میں واضح ہے کے جب انسان اپنا آخری وقت دیکھ کر ایمان لاے تو وہ قبول نہیں ہوگا۔ 

 جب اللہ  نے کہہ دیاکہ ، اب  ہربات کا فیصلہ قیامت  کےدن ہوگا تو پھر نبی عیسی ع س کیوں آئیں گے؟ لیکن نہیں روایات میں دجال کی کہانیاں  ہیں ۔کے ایک دجال نامی شخصیت  ہے جو کس جزیرہ  پر قید ہے اور قیامت سے پہلے وہ نمودار ہوگا۔اور دنیا میں ہر چیز پر اسکی حکومت  ہوگی۔تو اسکے خاتمہ کے لیے امام مہدی  حاضر ہوگیں جو 14-15 صدیوں سے روپوش ہیں ۔اسی دجال کے فتنہ  کو روکنے کے لئے اور اس سے محفوظ  رہنے کے لئے مسلم امت کی بڑی تعداد ،سورہ الکہف کی تلاوت کرتی ہے ہر جمعہ کی نماز کے بعد۔

   سوچا جاۓ تو ، دجال تو شیطان کا پیروکار ہے ۔ اور شیطان تو نبی آدم  ع س کے زمانے سے ہی  ہے ۔قرآں میں با لکل واضح ارشاد ہے کہ شیطان اور اس کے ساتھی آدم اور اسکی اولاد کے دشمن ہیں۔اور تا   قیامت تک انکو مہلت ملی ہے کہ بنی آدم کو بھٹکا ئیں ۔ (سورہ ال اعراف 7 :18-15)  ۔ اللہ  نے ان سے بچنے کی ہمیشہ تاکید کی ہے۔یہ قانون بھی رہتی دنیاتک قائم رہے گا۔۔اسلئے بحثیت مسلم ہم کو چاہیے کہ ہر لمحہ اس سے بچیں۔جب تک ہماری زندگی ہے۔تاکہ یوم آخرہ میں جب اللہ  کے حضور حاظر ہوں تو شرمندہ نہ ہوں۔

   پر افسوس  کہ ہم نے اپنے آپ کوان روایتوں  میں الجھا لیا ہے۔اگر عقل سے سوچیں تو یہ بات واضح ہے کہ ،اس دنیا کا خاتمہ جب بھی ہو لیکن  جب ہم مر گے تو ہماری دنیا میں رہنے کی مہلت ختم۔ اور پھر یوم آخرہ کے وقت جب دوبارہ زندہ ھوگیں تو اپنے  رب کے سامنے حاضر ہوگیں ،اپنے اعمالوں کی جوابدهی کے لئے  ۔۔۔۔ تو فکر کریں اس وقت کی!!!

     قرآن میں ،اللہ نہ واضح الفاظوں میں انبیا اور رسولوں کے ذریعے  جس وقت  سے آگاہ کیا ہے وہ مرنے کے بعد اٹھنے کی زندگی ہے۔اس بات کا علم کسی کو نہیں کے یہ دنیا کب ختم ہوگی!!! 

چاہے روایتوں  کی نشانیاں  جو دشمنان اسلام کی پلاننگ اور پروپگینڈہ ہے  ظاہر بھی ہو جائیں تب بھی وہ کوئی  دن یا تاریخ  نہیں بتا سکتے کہ دنیا کا خاتمہ  کب ہوگا !!!

کیونکہ اسکا علم صرف اور  صرف رب العالمین کو ہے!! 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *