ہم نے اس کتاب کوتیری طرف نازل کیا ہےتو تم خلوص کیساتھ بندگی کرو اللہ کی اور اس دین کی( 39:1)
اللہ نے بہترین حدیث نازل فرمائ ہے ۔جو ایکدوسرے سے ملتی جلتی ہیں اوردہرائ جاتی ہیں اورجو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں انکے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور پھر انکے دل نرم ہوکر اللہ کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں یہی اللہ کی ہدایت ہے جو چاہتا ہے وہ لیتا ہے اور جو گمراہ ہونا چاہے اس کوکوی هدایت دینےوالا نہیں( 39:23)
ہم نے یہ کتاب نازل کی ہے تمھاری طرف انسانوں کی بھلائ کے لئے تو جو شخص اسکے مطابق زندگی بسر کرے گا اس کا فائدہ اسی کو ہوگااورجو اسکوچھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرلے گا تو اسکا نقصان اسی کو۔آپ کو ان پر دروغہ مقرر نہیں کیا گیا ہے (39:41)
مندرجہ بالا آیات قرآن الفرقان کی سورہ الزمر (39) کی ہیں ۔ جسمیں یہ صاف اور واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ یہ کتاب ( قرآن )اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہےتمام انسانوں کی هدایت کے لئے تو جو ھدایت لینا چاہے وہ اس سے هدایت لےاور جو گمراه هونا چاہےتو رسول رسولﷺ اسکے ذمہ دار نہیں ہیں
اسی طرح قرآن میں متعدد بار یہ بیان ہوا ہے کہ رسولﷺ صرف قرآن کی اتباع کرتے تھے ۔الدین السلام کے احکامات میں کسی قسم کے ردوبدل کی گنجائش نہیں ہے جو احکامات اللہ نے قرآن میں لکھ دئے ہیں آپ رسولﷺ نے صرف اسکی اتباع کی ہے ۔
سورہ الانعام(6 :50). ان اتبع الاما یوحی آ
سورہ الاعراف( 7:203) ۔ قل انما اتبع ما یوحی آ الا من ربی
سورہ یونس ( 10:15) ۔ ان اتبع الا ما یوحی آ
سورہ الاحقاف (46:9) ان اتبع الا ما یوحی آ
یعنی دین کے احکامات قرآن میں اللہ نے لکھ دئے ہیں اور اللہ کے رسول صرف اسکی اتباع کرتے تھے اور یہی حکم تمام انسانوں پر لاگو ہوتا ہے جو اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ کے پیروی کرنی ہے تو صرف اس کتاب کی جو کے ایک بہترین حدیث کی کتاب ہے جسکے راوی اور پہچانے والے انسان ایک تھے جنھیں اللہ نے اپنا آخری رسول اور نبی بنا کر اس دنیا میں بھیجا۔
اسی طرح اللہ نے اپنی ایک سورہ القمر (17,22,32,40) میں متعدد بار یہی دہرایا کہؔ ہم نے اس قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان بنایا ہے ۔کوئ ہے جواس ذکر سے نصیحت حاصل کرے۔
یہ ساری تمہید اورصرف قرآن کے ذریعے اسکی وضاحت اسلئے کی
تاکہ ہر عاقل و بالغ اپنی عقل اور اپنے شعور سے فیصلہ کرے۔ قرآن اللہ کی آخری ہدایت کی کتاب ہے جو تمام نوع انسان کی بھلائ کے لئے نازل فرمائ گئ ہے ۔ تو جو شخص اس کتاب سے ھدایت لینا چاہے لے سکتا ہے اسی آیات با لکل واضح اور روشن ہیں۔سمجھنے کے لئےآسان ہیں یعنی اگر کوئی بات یا حکم سمجھانا ہو تو اس آیت سے ملتی جلتی اور دوسری آیات بیان ہوئ ہیں تو دوسری طرف کچھ اور آیتیں تقابل کے طور پر پیش هوکر اس بیان کو اور واضح کر دیتی ہیں۔اسلئے اللہ نے قرآن کے شروع میں ہی فرما دیاکہ یہ کتابؔ لا ریبؔ ہے ۔ یعنی اسمیں کوئی ابہام نہیں ہے ۔کسی قسم کی کوئ پیچیدگی نہیں ہے ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا تر ہے ۔
اس کلام کو اللہ نے بہتریں احادیث قرار دیا ہے اور چیلنج ہے کے کوی اس جسی کوئ ایک سورہ بنا لاے۔
افسوس کے جو اس کتاب کے وارث ہیں انھوں نے بھی وہی کام کیا جو پہلی الہامی کتابوں کے ساتھ انکے ناخلف وارثوں نےکیا یعنی اللہ کے کلام میں اپنی مرضی کی تعلیمات ڈال کر اسکو رسولوں اور انبیا اکرام کے نام سے منسوب کر دیا۔ ہر دور میں اللہ کے دین الاسلام کے دشمنوں نے اللہ کی نازل کردہ تعلیمات کو بدل دیا اور یہی کام قرآن کے وارثوں نے کیاہے۔انھوں نے قرآن کے مدمقابل سنت رسولﷺ کے نام سے روایاتوں کی چھ کتابیں رکھ دیں۔جنھیں اتنا مستند سمجھا جاتا ہے ہےکہ انکے خلاف بات کرنے والوں پر کفر کے فتویٰ لگ جاتے ہیں۔
دشمنان اسلام میں اتنی ہمت نہ ہوئ کہ جس کلام کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے لی ہواسمیں کوئی ردو بدل کر سکیں تو انھوں نے احادیث رسول محمد کے نام سے احادیث کی کتابیں لکھ دیں ۔الدین السلام کو بگاڑ کر مذہب اسلام کی بنیاد رکھی۔
اللہ نے ہر دور میں انبیا اور رسولوں کے ذریعے صرف اور صرف ؔ دینؔ دیا تھا جسمیں تمام انسانوں کی بھلائی ہو ۔نبی آدم سے لیکر رسو ل محمد ﷺ تک صرف ایک ہی دین تھا۔جسمیں تمام دنیا کے انسانوں کی بھلای ہو کیونکہ مذاہب سے انسانوں میں تفرقہ پڑتا ہے۔قرآن اللہ کی آخری ہدایت کتاب ہے تمام نوع انسانی کے لئے، سلئے اللہ نے واضح فرما دیا کے “اللہ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ میں نہ پڑو” ۔( سورہ آل عمران :3:103)۔
لیکن اللہ کے دشمنوں ، دشمنان اسلام، نے پہلے اللہ کے دین الاسلام کو بگاڑ کر مذہب اسلام کی بنیاد رکھی اور پھر روایتوں کے ذریعے اس مذہب میں بہت سے فرقے پیدا کردئے.آج مسلم امت صرف اسلئے تنزلی کا شکار ہے کہ وہ دین الاسلام کی اصل تعلیمات کو بھول گۓ ہیں اور ان روایات کو مقدم سمجھتے ہیں جس سے صرف فرقہ بندی ہو رہی ہے۔
یہ مہینہ رمضان کا ہے جو کہ بڑا بابرکت مہینہ ہے کیونکہ اس مہینہ میں اللہ نے انسانوں کی ہدایت کے لئے قرآن کا نزول فرمایا تاکہ نسل انسانی اچھائ اور برای میں تمیز کر سکے۔ لیکن روایات کی بدولت اس مہینہ کا آغاز ہی فرقہ پرستی سے ہوتا ہے ۔ روایات کی وجہ سے مسلم امت اپنے اپنے فرقوں کے حساب سے سے اس بابرکت مہینہ کا آغاز کرتی ہے ۔ چونکہ اسلامی ہجری کلینڈر چاند کی تاریخ پر بنتا ہے تو اس مہینے کے آغاز اور اختتام پررویت ہلال کمیٹی , چاند کو دیکھ کر فیصلہ کرتی ہے کہ رمضان کب شروع ہوگا اور کب اسکا اختتام ہوگا۔ حلانکہ اللہ نے اپنے کلام قرآن الفرقان,سورہ یونس میں واضح ارشاد فرمایا ہے(10:5) ” کہؔ چاند کی منازل متعین کردی ہیں تا که تم اس سے برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرو”.اس بات سے واضح ہوگیا کے حکومت اپنی ریاست کو چلانے کے لئے پہلے سے ایک کلینڈر بنا لے جس سے دن اور تاریخوں کا تعین ہوسکے ۔اور اسکی بنیاد پر سالوں کی منصوبہ بندی ،معاہدے کر سکتی ہے ۔پر افسوس کے ان روایتوں کو ہم نے مقدم سمجھا اور اللہ کے فیصلہ کو تسلیم نہیں کیا۔اسلئے مسلم امت میں نہ یکجہتی ہے نہ ایکا وہ اسلام کے جاہلانہ دور کی طرح گروہ میں بٹ گئ ہے۔
اس سے پہلے بھی نسل انسانی اللہ کی ہدایت کو بھلا بیٹھی تھی اور گروہ در گروہ میں بٹ گئ تھی ۔تباہی کے آخری دہانے تک چلی گئ تھی۔اپنے ہی جیسےدوسرے انسانوں کوغلامی کی قید میں جکڑا ہوا تھا ۔آج بھی حالات وہے ہیں۔ انسانون نے اپنے جیسے ہی انسانوں کو اپنا غلام بنایا ہوا ہے۔
ماضی میں جب مسلم امت اللہ کی دی ہوئ ھدایت کے مطابق دین الاسلام پر قائم تھی تو جزیرہ عرب سے نکل کر ترقی کرتی ہوئ یورپ تک جا پہنچی تھی لیکن جب اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کرروایتوں پرعمل کرنے لگی تو تنزلی کا شکار ہوگئ۔ آج دنیا میں مسلم امت ہر جگہ ذلیل وخوار ہیں اور جو قومیں اللہ کی دی ہوی ھدایت پر عمل کرہے ہیں وہ ترقی کی جانب گامزن ہیں
اللہ ہم مسلم امت کو ہدایت دے کے ہم قرآن کی تعلیمات کو اپنائیں ان پر عمل کریں اور ان روایتوں سے اپنے آپکوبچائیں۔ جو قال رسولﷺ سے شروع ہوتی تو ہیں لیکن انھی کے لئے قرآن میں رسولﷺ نے اللہ سے کہا ہے (سورہ الفرقان 25:30).
وقال رسولﷺ ،اور اللہ کا رسول کہے گا اے میرے رب بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑا ھوا تھا / روایتوں کی زنجیروں میں مھجور کردیا تھا۔
اللہ ہم سبکواس کلام کو پڑھنے اور سمجھنےکی توفیق دے کہ ہم اس پر عمل کر کے اپنی دنیا اور آخرہ کو امن کا گہوارہ بنائیں
Leave a Reply