“مذہب ایک منظم نظام ہے جو عقائد ، اعمال اور علامتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔جسے ایک جماعت مل جل کر ادا کرتی ہی۔ یہ اپنے ماننے والوں کو کسی مقدس شے سے جوڑتا ہے اور زندگی اور وجود کے آخری سوالات کے جوابات فراہم کرتا ہے” ..
اسی طرح ریاست ایک سیاسی تنظیم ہے جو ایک متعین علاقے اور آبادی پر نظم و ضبط، تحفظ اور قانون کی عمل داری قائم کرتی ہے، اور اس کے ادارے خودمختاری کے ساتھ قوانین نافذ کرتے ہیں۔
یہ تعریفیں میری دی ہوئی نہیں ہیں بلکہ ان لوگوں کی دی ہوئی ہیں جو اس دنیا کے نظام کو چلا رہے ہیں۔
جبکہ قرآن کے مطابق دنیا کا نظام اس ہستی کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق چلنا چاہیے جس نے اس پوری کائنات کو تخلیق کیا ہے۔ کسی کو کوئی خودمختاری حاصل نہیں، تمام اختیارات اللہ کے پاس ہیں۔ اللہ کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق ہی اس دنیا کا قانون بننا چاہیے۔
زمانۂ قدیم سے جب انسان نے شعور کی دنیا میں قدم رکھا تو وہ یہ بھول گیا کہ اگرچہ اسے اختیار دیا گیا ہے، لیکن اس اختیار کے ساتھ یہ شرط بھی ہے کہ اگر وہ اللہ کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق عمل کرے گا تو ہی فلاح پائے گا، ورنہ ذلت و خواری اس کا مقدر ہوگی۔
یہ ہدایت اللہ تعالیٰ نے اپنے منتخب بندوں کے ذریعے دی، جنہیں ہم نبی یا رسول کہتے ہیں۔ اللہ نے ان پر وحی کے ذریعے اپنا پیغام نازل کیا، اور اس پیغام کو رسولوں نے کتابوں یا صحیفوں کی صورت میں محفوظ کیا۔
آج ہمارے پاس اللہ کی آخری ہدایت کی کتاب قرآن الفرقان موجود ہے۔
یہ وہ ہدایت کی کتاب ہے جس میں کوئی شک یا ابہام نہیں (لَا رَیْبَ)۔ اس میں چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات نہایت واضح الفاظ میں بیان کی گئی ہے، بار بار دہرائی گئی ہے اور مثالوں کے ذریعے سمجھائی گئی ہے۔
یہ وہ کتاب ہے جس کا دعویٰ ہے کہ یہ سمجھنے کے لیے آسان ہے ۔ کیا کوئی ہے جو اسے سمجھے؟
یہ وہ کتاب ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے لی ہے۔
اسی کتاب کی ہدایت پر عمل کر کے رسولِ اکرم ﷺ نے انسانوں کے کردار کی تعمیر کی، ایک اسلامی معاشرہ اور ریاست قائم کی، جسے “الدین الاسلام” کہا گیا۔
وہ دین جسے قائم کرنے کی جدوجہد ہر نبی اور رسول نے کی، اور جسے قائم رکھنے کی ہدایت تمام انبیاء و رسل کو دی گئی:
“اس دین کو قائم رکھنا”
جب تک مسلم جماعت اس ہدایت سے جڑی رہی، جزیرہ نمائے عرب سے آگے بڑھتے ہوئے دنیا کے کئی خطوں میں “الدین الاسلام ” قائم ہوا۔
اب سوال یہ ہے کہ:
اللہ نے دین دیا تھا یا مذہب؟
کیا اللہ کے رسولوں نے دینِ اسلام کو قائم کرنے کی جدوجہد کی تھی یا صرف مذہب اسلام کو؟
جب رسولِ محمد ﷺ دنیا میں تشریف لائے اور اللہ کا پیغام پہنچایا تو انہیں اتنی شدید مشکلات کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟
حالانکہ اس وقت جزیرۂ عرب میں آتش پرست، یہودی، عیسائی اور مختلف مذاہب کے ماننے والے موجود تھے۔
اگر صرف مذہب کی بات ہوتی تو پھر اسلام کو قائم کرنا اتنا مشکل کیوں تھا؟
آج بھی دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف مذاہب کے ماننے والے مل جل کر رہتے ہیں، تو پھر صرف مذہب اسلام سے کسی کو کیا خطرہ ہو سکتا تھا؟
سوچیں! غور کریں!
کیا آپ مذہب اسلام کو مانتے ہیں یا دین الاسلام کو؟
اگر آپ اللہ کی دی ہوئی آخری ہدایت کے وارث ہیں تو اللہ نے قرآن میں” الدین الاسلام “ کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔
پورے قرآن میں اسلام کے لیے لفظ “مذہب” استعمال نہیں ہوا، اور نہ ہی روایت کی کتابوں میں اسلام کے لیے یہ اصطلاح آئی ہے۔
تو کیا کہیں آپ بھی ان ناخلف وارثوں کی تقلید تو نہیں کر رہے جنہوں نے اصل ہدایت کو چھوڑ دیا، اور دین الاسلام کو بگاڑ کر مختلف مذہبی شکلیں بنا لیں؟
اسی وجہ سے آج مسلم امت زوال اور ذلت کا شکار ہے۔
آج بہت سے مسلم ممالک میں مذہب اسلام کے ماننے والے اقتدار میں تو ہیں، لیکن ان کا ریاستی نظام اللہ کے دیے ہوئے دین پر قائم نہیں۔
دین کی تعریف انسائیکلوپیڈیا میں نہیں ملے گی،
وہ صرف اللہ کی ہدایت کی کتاب میں محفوظ ہے۔
تو سوچیں: کیا اسلام دین ہے یا مذہب؟؟؟
“کیا اسلام دین ہے یا مذہب؟”
Leave a Reply