کہتے ہیں کہ انسان جب چالیس برس کا ہوتا ہے تو جا کر صحیح معنوں میں سمجھدار ہوتا ہے۔ میری بھی قرآن سےوابستگی اسی عمر میں ہوئی۔ اس سے پہلے ہم بزرگوں کی دی ہوئی تعلیمات پر ہی چلتے رہے۔ ۔
پھر قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا دور شروع ہوا۔ جناب ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے قرآنی تفاسیر کے لیکچرز نے گویا دماغ کی کھڑکیوں پر ضرب لگائی،تو دوسری طرف والد صاحب (منیب الکبیر) ، انکی باتوں نے ، مجھ میں دین کو جاننے کا شوق پیدا کر دیا. تب یہ عقدہ کھلا کہ دین اور مذہب دو الگ چیزیں ہیں، اور مذہب کا لفظ تو اسلام کے لیے قرآن میں سرے سے استعمال ہی نہیں ہوا۔
اسلام تو دین ہے، جس کی تعلیمات سب سے پہلے نبی نوحؑ نے دیں، اور ان کے بعد آنے والے تمام رسولوں اور انبیائے کرامؑ نے بھی۔ یہ وہ دینُ الاسلام ہے جو تمام انسانوں کے لیے دیا گیا، جس کے امام حضرت ابراہیمؑ ہیں، اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ تمام انسانیت کے لیے مبعوث کیے گئے۔
یہ وہ دین ہے جس کی تعلیمات اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری ہدایت کی کتاب میں محفوظ فرما دی ہیں، اس چیلنج کے ساتھ کہ:
“یہ کتاب اور اس کی ہدایت دینِ اسلام کو مکمل کرتی ہے، اور یہ کتاب سمجھنے کے لیے آسان ہے۔”
میری کوشش یہی ہے کہ تمام مذاہب کے لوگوں کو یہ بات سمجھاؤں کہ اگر اس دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا ہے – جہاں سب کی جان، مال اور عزت محفوظ ہو، ہر شخص کو اس کی بنیادی ضروریات میسر ہوں، اور وہ امن، سکون اور صاف ستھرے ماحول میں اپنی صلاحیتوں کو صحیح طور پر استعمال کر سکے—تو ہمیں آپس میں مل کر رہنا ہوگا۔
آپ کے مذہب، عقائد اور تعلیمات جو بھی ہوں، لیکن ایک ایسا دین یا نظام قائم کرنا ہوگا جہاں سب کے لیے سلامتی ہو۔ آپ اپنے آپ کو کچھ بھی کہلائیں، مگر اس ذات کے نزدیک جو اس پوری کائنات کا خالق ہے، آپ “مسلم” ہوں گے- کیونکہ آپ سلامتی کا پیغام دے رہے ہیں اور اس کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔
آپ کا عقیدہ کچھ بھی ہو، اس کائنات کے خالق کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، مگر وہ نظام جس سے معاشرے کے ہر فرد کو سلامتی ملے، وہ نظام ہم سب کو مل کر قائم کرنا ہے۔
پچھلے ادوار میں دینِ اسلام اسی لیے دنیا میں تیزی سے پھیلا، کیونکہ لوگ اللہ کی دی ہوئی ہدایت پر قائم تھے۔ جب اس ہدایت کو چھوڑ دیا گیا تو ذلت و خواری ان کا مقدر بن گئی۔
میری کوشش یہی ہے کہ ان تعلیمات کا پیغام پہنچاؤں اور آپ کے ساتھ مل کر اس دنیا کو امن کا گہوارہ بناؤں۔
میری اس جدوجہد میں میرا ساتھ دیں۔
Leave a Reply